ڈاکٹر محمد کاشف علی :
کچھ روز قبل ٹانڈا کے ہردلعزیز مرزا محمد آصف سے سماجی وسیلوں سے رابطہ ہوا اور ان سے ایک بار ہی بات کر کے محسوس ہوا کہ معلومات کی تحصیل کے لئے ملنا ضروری ٹہرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو بس میں گجرات کے شمال مشرقی قصبے ٹانڈا میں تھا اور اشنہ الہی( میری بیٹی ) میرے ہمراہ۔

ٹانڈا ایک صاف ستھرا سا قصبہ ہے جس میں تقسیم ہند سے قبل سکھ کافی تعداد میں آباد تھے اور متمول بھی تھے۔ ٹانڈا کا بازار ابھی بھی سارا تقریباً قبل از تقسیم کے انداز میں ہے اور اس کے گردونواح میں اب بھی کچھ قدیمی گھر اور چوبی دروازے مل جاتے ہیں۔

ٹانڈا کی سب سے قابل ذکرعمارت گرو گوبند خالصہ لبانہ سکول ہے جس کو سن 2021 میں سو برس پورے ہو جائیں گے، اب اس کا نام گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول ہے۔ جب بنا تھا تب یہ ایک اقامتی ادارہ تھا اور ایک مختصر سا گوردوارہ بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے۔ سکول میں معلم اور متعلم سکھ ، مسلم اور ہندو تمام اقوام سے تھے۔

سنت بابا پریم سنگھ صاحب جو ایک سماجی کارکن اور سکھوں کے مذہبی و روحانی راہنما تھے ، نے اس سکول کو 1921 میں بنوایا تھا اور اس وقت یہ متحدہ پنجاب کے بہترین سکولوں میں سے ایک تھا۔ پریم سنگھ صاحب تقسیم کے وقت بھارت مہاجرت کر گئے تھے اور 1950 میں ان کی وفات ہوئی۔


ٹانڈا کے مرزا محمد آصف نہ صرف خود مقامی تاریخ و ثقافت کا خزانہ ہیں بلکہ ان کے پاس مواد کا بھی خزانہ ہے، پرانے کرنسی نوٹ، پرانے مکاتیب و مسودہ جات، سنت بابا پریم سنگھ کی صد سالہ پرانی تلوار اور بہت کچھ ان کے خزانے کے اجزاء ہیں۔ دھیمے لہجے کے ایک گہرے بندے اور گرم جوش میزبان ہیں۔

