خلیل-احمد-تھند، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

بلوچ باغی کیا چاہتے ہیں؟

·

تاریخ سے واقفیت رکھنے والوں کے علم میں ہوگا کہ بنگالی لیڈر حسین شہید سہروردی نے برصغیر کی تقسیم سے پہلے متحدہ بنگال پر مشتمل ایک آزاد بنگالی ریاست کی تجویز پیش کی تھی جسے قائد اعظم محمد علی جناح نے تسلیم کرلیا تھا لیکن کانگریس نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

حسین شہید سہروردی کی اس تجویز کو اگر پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ بنگالیوں کے ذہن میں اول روز سے ہی آزاد بنگالی ریاست کا تصور موجود تھا جسے نو مولود پاکستان میں اقتدار کی کشمکش، ایوب خان، بھٹو اور مجیب الرحمٰن نے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔

صحیح بات یہ ہے کہ اگر بنگالی لیڈرشپ کے ذہن میں علیحدگی کا تصور موجود نہ ہوتا تو وہ الگ ہونے کے بجائے متحدہ پاکستان ہی میں اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھتے۔

لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو جو برسوں تک کبھی نہیں آئی تھی تب ہی محسوس ہونا شروع ہوتی ہے جب دل میں بارش کے بہانے پھسلنے کا ارادہ موجود ہو۔

تاریخ تک درست رسائی نہ ہونے اور بھانت بھانت کی بولیوں کی وجہ سے نئی نسل کنفیوز ہوتی ہے اور موقع پرستوں کو بنگالی علیحدگی پسندوں کی آڑ لے کر ریاست پر چڑھائی کا موقع مل جاتا ہے۔

ہمارے نزدیک تقسیم در تقسیم مسائل کا حل نہیں ہے۔ تقسیم اپنوں کی خود غرضی اور دشمن کی ضرورت ہے۔ چھپن حصوں میں تقسیم ہوکر بھی ہم اپنے مسائل حل نہیں کر پائے اور یہ مسائل مزید تقسیم ہو کر بھی حل نہیں ہوں گے۔ 

دنیا سمٹ رہی ہے اور ہم دور ہونے ہر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ سالہاسال تک باہم دست و گریبان رہنے والا یورپ آج یوروپی یونین کی صورت متحد ہے۔ ترقی کے لیے عالمی فورمز قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ دنیا سمٹنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمارے لوگ علیحدگی کو ترقی و خوشحالی کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔

ہم اپنی نئی نسل سے گزارش کرتے ہیں کہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہر نقطہ نظر کا تجزیہ کریں تاکہ غلط اور صحیح کا اندازہ ہوسکے۔ یہی کامیابی کی طرف سفر کا نقطہ آغاز ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد اختیارات اور محرومیوں کو جواز بنا کر ریاست پر چڑھائی بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ اس ترمیم کے ذریعے اختیارات کا مرکز صوبوں کو بنا دیا گیا۔ وفاق کے پاس ایک فیڈریشن کے اختیارات باقی رہ گئے ہیں لہذا حصہ بقدر جثہ کے مطابق وفاق کو اتنا ہی مورد الزام ٹھیرایا جائے جتنے اس کے اختیارات ہیں۔

بعض دانشور بلوچ عسکریت کے جواز کے لیے بلوچستان کو فورسز کے ہاتھوں مفلوج صوبہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ وہاں ہر ایم پی اے اور ایم این اے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہے۔ عوام انہیں منتخب نہیں کرتے۔ اس نقطہ نظر کو اگر درست تسلیم کرلیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بغاوت پر آمادہ بلوچ ان ڈمی نمائندوں کو گلے لگا کر ریاست پر چڑھائی کیوں کررہے ہیں؟

صحیح بات یہ ہے کہ بلوچستان سرداری نظام کا سماج ہے۔ اس سماج پر سرداروں کی گرفت اس قدر زیادہ ہے کہ جب بھی الیکشن ہوں گے، سرداروں ہی میں سے کوئی منتخب ہوگا۔ ان سرداروں کو ڈمی قرار دے کر پردہ ڈالنے کی جتنی بھی کوشش کی جائے حقیقت بدلنے والی نہیں ہے۔

ہمارے نزدیک بلوچ باغیوں کا اپنے سرداروں کے خلاف بغاوت کرنے کی بجائے سیدھا ریاست پر بندوق تاننے کا مطلب حقوق لینا نہیں ملک توڑنا ہے۔

بعض دانشور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے عنوان میں فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست کو ہر حال میں گھٹنے ہی ٹیکنے چاہئیں۔ یہ دانشور جہاں مذاکرات کی ضرورت تھی وہاں بندوق پکڑے ہوئے تھے، آج بندوق کی ضرورت ہے تو مذاکرات کا بھاشن دے رہے ہیں۔

ریاست اور شہریوں کے تعلقات میں جہاں بھی افراط و تفریط ہوتی ہے فوری طوری پر بنگلہ دیش کا حوالہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ ایک روایت بن گئی ہے جسے روکنا انتہائی ضروری ہے۔

مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میرے ایک بھائی جب بھی ناراض ہوتے تو کہتے تھے کہ میں گاڑی کے نیچے آ جاؤں گا۔ پوری فیملی منت سماجت کرتی۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ ایک روز بڑے بھائی کی دیکھا دیکھی ہم نے بھی یہی جملہ دہرا دیا۔ والد محترم جنہوں نے ہم پر کبھی غصے کا بھی اظہار بھی نہیں کیا تھا نئے باغی کو دو زور دار تھپڑ رسید کیے جن کی وجہ سے ہمارے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ ہم نے شکوہ کیا کہ بڑے بھائی آئے روز یہی حرکت کرتے ہیں انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔ مجھے پہلے دن ہی تھپڑ پڑ گئے۔ والد صاحب نے فرمایا کہ اس سے پہلے کہ یہ مرض مزید بڑھے اس کا تدارک ضروری تھا۔ اس دن کے بعد ہم میں سے کسی نے ویسی حرکت کرنے کی کوشش نہیں کی۔

لہذا پاکستان میں مذہب ، زبان ، نسل اور علاقوں کی بنیاد پر باغیوں کی جو فصل اگائی گئی ہے، اس کا بروقت علاج ضروری ہے ورنہ مسائل اور محرومیوں کو جواز بنا کر دھینگا مشتی جاری رکھی جائے گی۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے