معروف ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ’ اردو نیوز‘ سے وابستہ معروف ڈیجیٹل میڈیا پرسن جناب اسرار احمد نے اگلے روز اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک مختصر سی پوسٹ لکھی:
’پچھلے دو، تین برسوں سے اسلام آباد کے تفریحی مقامات پر عید کے تینوں دن فیملی کو لے کر جانا ناممکن ہوگیا ہے۔۔‘ اس کے بعد انھوں نے ایک سوشل میڈیا ایکٹویسٹ حنیف سمانا کی تحریر نقل کی، جو گزشتہ روز فیس بک پر شائع ہوئی۔ کہتے ہیں کہ اس تحریر میں جو تصویر کشی کراچی کی گئی ہے انیس بیس کے فرق سے اب یہ معاملہ اسلام آباد میں بھی لوگوں کو درپیش ہے۔۔۔‘
اب حنیف سمانا کی تحریر پڑھیے:
کراچی کے رہنے والے اپنی فیملی کے ساتھ کسی بھی تہوار کے موقع پر کراچی کی کسی بھی تفریح گاہ کا رخ نہیں کرتے۔۔ چونکہ وہاں انسان نہیں ہوتے ۔۔۔۔
جانوروں کا ہجوم ہوتا ہے۔
بے شرم ۔۔ بے غیرت ۔۔ بد لحاظ ۔۔ بد تمیز ہجوم ۔۔
چونکہ وہاں ماں، بہن کی کوٸی تمیز نہیں ہوتی۔ بس جو بھی خاتون نظر آٸے ۔۔۔ اُسے گھورنا ۔۔۔ آوازیں کسنا ۔۔ اشارے بازی کرنا ۔۔ دھکم پیل ۔۔
ایسے ایسے بھوکے ندیدے بد نظر جانور۔۔۔ جو خواتین کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ جیسے کبھی زندگی میں کوٸی خاتون دیکھی ہی نہ ہو۔ یہ بد نظر اپنے گھر میں نجانے اپنی ماں بہن کو بھی کس طرح دیکھتے ہوں گے۔
آج ایک دوست نے ساحلِ سمندر پہ موجود ایک فیملی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سنایا تو میری آنکھیں بھر آٸیں۔
ایک عمر رسیدہ جوڑا اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ سی ویو تفریح کرنے گیا تھا۔ وہاں نوجوانوں کے ایک گروہ نے ان پر آوازیں کسیں۔۔ سیٹیاں بجاٸیں۔۔ بزرگ نے سمجھانے کی کوشش کی تو وہ بدنسل لوگ بزرگ سے الجھنے لگے۔ وہاں کوٸی بھی اس مظلوم خاندان کی مدد کے لیے نہیں تھا چونکہ آوارہ نوجوان تعداد میں زیادہ تھے۔
ریاست کا تو کیا سوال ۔۔
وہ تو کب کی مرچکی ہے۔۔
حد تو یہ ہے کہ سماج بھی مرچکا ہے۔۔
میں نہیں سمجھتا کہ کسی کافر ملک میں ایسا ہوتا ہوگا۔
بالآخر وہ فیملی جلد سے جلد اپنی گاڑی تک پہنچی۔۔ اور وہاں سے تفریح کیے بغیر چلی گئی۔۔ جاتے وقت ان دو لڑکیوں کی آنکھوں میں خوف تھا۔۔ ان کی ماں کی آنکھوں میں آنسو ۔۔ اور باپ کی آنکھوں میں بے بسی۔۔
جبکہ ہجوم کی پوزیشن تماش بین کی سی تھی۔
میرے دوست نے مجھے جب یہ واقعہ سنایا تو مجھے ان بڑے صاحب کی بے بسی پر رونا آیا۔
ایسی حکومت جو دن کی روشنی میں ۔۔ اتنی مصروف جگہ پر ۔۔ اپنے شہریوں کی عزت و آبرو کی حفاظت نہ کرسکے ۔۔ اُس کے اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز ہے؟
یہ تحریر میں نے غصّے کے عالم میں لکھی ہے۔ میرے پڑھنے والوں کو کوٸی بات بُری لگی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔ ‘
یہ تو ہوئی حنیف سمانا کی تحریر۔
یہ دونوں تحاریر پڑھ کر مجھے لاہور کی ایک شام یاد آگئی۔
جب عید میلاد النبی کے تہوار پر، لاہور میں ’عید میلاد النبی‘ منانے والے منچلوں کے ہجوم میں موٹر سائیکل سوار ایک شوہر اور بیوی گھر گئے۔ بدبخت نوجوان خاتون کو چھیڑنے لگے۔ اس واقعے کی مزید تفصیل لکھنے کی ہمت نہیں۔ آپ سوچ ہی لیں کہ ان بدبخت نوجوانوں نے اس جوڑے کو کس طرح اذیت سے دوچار کیا۔
ایسے ہی بہت سے دوسرے واقعات بھی موجود ہیں۔
آپ نے بھی اپنے اپنے شہروں، قصبوں میں رونما ہونے والے ایسے ہی واقعات دیکھ یا سن رکھے ہوں گے۔
انسان سوچتا ہے کہ ہم کیا سے کیا ہوچکے ہیں۔ اور کیا سے کیا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
میرا حکمرانوں سے محض اتنا سا سوال ہے کہ کیا پاکستانی فیملیز تہواروں پر اپنے آپ کو قید کرلیا کریں؟
کہ
سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد۔
تبصرہ کریں