امامہ فاطمہ بنگلہ دیش

بیوقوف بنگالی لڑکی؟

·

یکم اپریل کو اس 27 سالہ لڑکی نے ایک اور بیوقوفی کر دی۔ پچھلے سال یکم جولائی کو بھی اس نے کچھ ایسا ہی کیا تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کا خمیر ہی شاید کچھ ایسا ہے۔ اُمامہ فاطمہ یہاں بائیوکیمسٹری/ مائیکربیالوجی کی طالبہ ہے۔ سائنس اسٹوڈنٹس عموماً اردگرد کے ماحول سے لاتعلق ہی رہتے ہیں لیکن اُمامہ ایسی اسٹوڈنٹ نہیں ہے۔ اس عید کے تین دن اس نے جولائی تحریک کے شہداء اور زخمیوں کی فیملیز کے ساتھ ڈھاکہ اور چٹاگانگ ہی میں گزارے ہیں۔

ادھر امریکا میں کل یکم اپریل کو اس کا انتظار تھا مگر وہ امریکا نہیں گئی۔ دنیا کی دلیر خواتین کا ایک بڑا ایوارڈ IWOC اس کا منتظر ہی رہا۔ سیکرٹری آف اسٹیٹس مارکو روبیو اور امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ بنگلہ دیش کی اُن بہادر خواتین کو ایوارڈ دینا چاہ رہے تھے جنہوں نے جولائی کی تحریک میں مرنے والے اور زخمی ہونے والے اسٹوڈنٹ لیڈرز کے بعد ان حالات میں قیادت سنبھالی تھی کہ انٹرنیٹ بند تھا اور بیشمار مرد اسٹوڈنٹس جیل میں تھے۔

اُمامہ فاطمہ نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹلز سے ہزاروں طالبات کو ساتھ لیکر مردانگی سے نہیں ’زنانزگی‘ سے طلبہ تحریک کی قیادت سنبھالی اور اسے سیاسی انقلاب تک لے گئی جس کے نتیجے میں ظالم حسینہ کو اگرتلہ، انڈیا فرار ہونا پڑا۔

جراتمند دلیر خواتین کو دیئے جانے والا یہ امریکی ایوارڈ IWOC دو ہزار سات میں کنڈولیزا رائس نے شروع کیا تھا۔ اب تک 90 ممالک کی 200 خواتین بڑی خوشی سے یہ ایوارڈ وصول کر چکی ہیں لیکن اُمامہ فاطمہ ایوارڈ ٹھکرانے والی پہلی لڑکی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں اس کی بیوقوفی کا ۔۔۔

یکم اپریل کو ہونے والی پروقار تقریب میں تالیوں کی گونج میں آٹھ خواتین نے یہ ایوارڈ وصول کیا ان میں ایک اسرائیلی خاتون بھی شامل تھی۔ امامہ فاطمہ کو تمام انقلابی خواتین کی نمائندہ کے طور پر اس تقریب میں شرکت کرنا تھی لیکن اُس نے ڈھاکہ میں رہ کر شہداء کی فیملیز سے ملنے کو ترجیح دی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس لڑکی کے انکار نے #IWOC ایوارڈ کی کریڈیبلٹی ہی کو سمندر میں پھینک دیا ہے، اس سمندر میں جس کے بارے امامہ نے خود لکھا کہ ’دریا سے سمندر تک کا علاقہ جن کا ہے ان کو وہاں آزادی سے زندہ رہنے کا حق ملنا چاہیے۔‘

میں اس بیوقوف لڑکی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھ رہا ہوں، ہزاروں بنگالی کہہ رہے ہیں ’امامہ تم تاریخ کی درست سمت میں کھڑی ہو‘ ۔۔۔ کوئی بنگلہ دیشی عوام سے پوچھے کہ ’لڑکی تو نوجوان ہے، جذباتی ہو گئی ہے، تم لوگوں کو کیا ہو گیا؟ پہلے تم نے ساؤتھ ایشیا کے تھانیدار کی محبوبہ ظالم حسینہ کو بالوں سے گھسیٹ کر تخت سے اتارا، اب اتنا بڑا اعزاز ٹھکرانے والی لڑکی کو شاباش دے رہے ہو۔‘

شاید آپ کو یاد نہ ہو ۔۔۔ میں یاد کرواتا ہوں۔ نواب سلیم اللہ خان ۔۔۔ 30 دسمبر 1906ء کو ’مسلم لیگ‘ بنانے والے، ڈھاکہ کے جدی پُشتی نواب ۔۔۔ دو فروری 1912ء کو انہوں نے وائسرائے ہند سے مطالبہ کیا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی بنائی جائے اور پھر یونیورسٹی بن گئی لیکن یہ ایک مردانہ یونیورسٹی تھی جس میں طالبات کا داخلہ ممنوع تھا۔

مشہور حریت پسند نیتاجی سبھاش چندر بوس کے استاد گریش چندرا ناگ کی بیٹی لیلا رائے نے مطالبہ کیا کہ اسے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ دیا جائے لیکن انکار ہو گیا۔ وہ بپھر گئی اور اس نے احتجاج شروع کر دیا۔ بالآخر وائس چانسلر فلپ ھارٹوگ نے گھٹنے ٹیک دیے۔ یوں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی کی پہلی خاتون طالبہ بن گئی۔

آج جہاں نواب سلیم اللہ خان یاد آئے، وہاں بنگالیوں کی مسلم حمیت بھی گنگنائی ۔۔۔ جانے اس باغی لڑکی کا نام کس نے رکھا  لیکن رکھا بہت خوب ہے ۔۔۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی پہلی بیٹی حضرت زینبؓ کی بیٹی یعنی آپؐ کی نواسی کا نام حضرت اُمامہؓ تھا۔ یوں اہلِ بیت کے دو بہترین ناموں کی نسبت سے اس لڑکی کا نام رکھا گیا، اُمامہ فاطمہ۔

اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ امامہ فاطمہ نے IWOC لینے سے کیوں انکار کیا۔ دینی حمیت، زمینی شجاعت سے لبریز اور اڑتالیس ہزار مظلوم شہداء کی وارث یہ لڑکی بیوقوف نہیں ہے، انتہائی سمجھدار ہے  اور  اِس نے گھاٹے کا سودا نہیں گیا۔ ایسا سودا پہلے برطانوی رکن پارلیمنٹ سعیدہ وارثی بھی کر چکی ہیں۔ دعائیں بہت، دونوں کے لیے۔

From River to the Sea

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے