جب شام کے سابق صدر حافظ الاسد (بشارالاسد کے والد) نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی قبر کو کھودنے اور ان کی لاش کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تو اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز متحرک ہوئے، انھوں نے کمال چالاکی سے شامی صدر کو اس حرکت سے روک دیا۔ اور اس انداز میں روکا کہ حافظ الاسد کے وہم و گمان میں بھی نہ آیا کہ شاہ فہد کتنا بڑا کام کرگئے ہیں۔
دراصل ہوا کچھ یوں کہ حافظ الاسد نے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی قبر کو اکھاڑ پھینکنے کا ایک منصوبہ بنایا۔ ان کا مقصد امام ابن تیمیہ کے جسم کو اپنی سرزمین سے باہر نکالنا نہیں تھا بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کی تذلیل کرنا تھا جو امام ابن تیمیہ کے حوالوں کے ساتھ حافظ الاسد کے خلاف تقریریں کرتے تھے۔ حافظ الاسد کے منصوبے کی تفصیل یہ تھی کہ قبر کو تلاش کیا جائے، امام کے جسم کو نکالا جائے۔ دمشق میں سنی العقیدہ لوگ اس منصوبے کی خبر پا کر خوفزدہ ہوگئے کہ حافظ الاسد مطلق العنان حکمران بن چکا تھا اور کوئی بھی اس کے احکامات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا تھا۔
اس وقت شام کے سنیوں کے پاس شیخ ابن باز کا سہارا لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، چنانچہ انھوں نے شیخ ابن باز کو سارا احوال سنایا جنہوں نے یہ معاملہ شاہ فہد بن عبدالعزیز تک پہنچایا، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔

شاہ فہد بن عبدالعزیز کو اس بات کا مکمل علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ حافظ الاسد سے اس منصوبے کو روکنے کا براہ راست مطالبہ کیا گیا تو اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر مسترد کردیں گے۔چنانچہ شاہ فہد نے چالاکی سے کام لیا۔ انھوں نے شام کے دارالحکومت دمشق میں سعودی سفیر سے رابطہ کیا، ان سے کہا کہ وہ فوری طور پر شامی ایوان صدر جائیں اور شامی صدر کو یہ پیغام پہنچائیں کہ سعودی ماہرین کی ایک ٹیم شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے مقبرے پر تحقیق کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے اور وہ وقتاً فوقتاً اس جگہ کا دورہ کرے گی۔ یہ ایک واضح پیغام تھا جو بالواسطہ تھا، اس پیغام نے شامی قیادت کو اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنے مجبور کردیا۔
اگلے دن سے ہی امام ابن تیمیہ کی قبر کو اکھاڑ پھینکنے کی خاطر پہنچنے والی ٹیم کو واپس بلا لیا گیا، اور شامی حکومت نے سمجھ لیا کہ سعودی مملکت ایسی کسی حرکت کو برداشت نہیں کرے گی، نہ صرف اس لیے کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ ایک علامتی مسئلہ بھی ہے جس سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد لگاؤ رکھتی ہے۔

اس قصے کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو ’سعودی ماہرین‘ کے طور پر بھیجا گیا تھا، ان میں سے زیادہ تر صرف سعودی سفارت خانے میں کام کرنے والے لوگ تھے، وہ سعودی عرب کا ایک ایسا واضح پیغام لے کر گئے جس نے بغیر کسی براہ راست تصادم کے امام ابن تیمیہ کی قبر کی بے حرمتی کے منصوبے کو ناکام بنادیا۔

امام ابن تیمیہ مشہور فقیہہ، محدث، منصف، فلسفی، ماہر معاشیات بلکہ جامع العلوم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک مجدد کی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔آپ نے عقائد، فقہ، رد فرق باطلہ، تصوف اور سیاست سمیت تقریبا ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور اہل علم میں منفرد مقام پایا۔ آپ بہت فصیح اللسان اور قادر الکلام تھے۔ علم وحکمت، تعبیر وتفسیر اور علمِ اصول میں انھیں خاص مہارت حاصل تھی۔ کسی عالم کی عظمت اور مرتبے کا اندازہ اس کے شاگردوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے شاگردوں میں امام ابن قیم، مشہور مفسر قرآن حافظ ابن کثیر جیسے عظیم المرتبت علمائے کرام تھے۔ سن چھ سو اکیس ہجری میں ترکی کے موجودہ علاقے حران میں پیدا ہوئے۔
آپ نے اپنے دور کے کئی علما کے ساتھ علمی مناظرے بھی کیے اور حکومتِ وقت کے ساتھ مل کر تاتاریوں اور باغیوں کے خلاف عملی جہاد میں بھی حصہ لیا۔ نفاذِ شریعت کی کوششوں کے سلسلہ میں آپ کئی تجاویز و شکایات لے کر وفود کے ساتھ حکام کے پاس بھی جاتے رہے۔ آپ کا انداز محققانہ اور محتاط تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو قاضی کا عہدہ بھی پیش کیا گیا مگر آپ نے حکومتی شرائط سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہیں کیا۔
امام ابن تیمیہ نے کسی کے خوف اور دباؤ کی پروا کیے بغیر اپنی منفرد علمی تحقیقات کی اشاعت کی۔ اپنے بعض علمی مباحثوں اور فتووں کی وجہ سے آپ کو ایک مدت تک قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں، حتیٰ کہ جب داعئ اجل کو لبیک کہنے کا وقت آیا تو آپ زندگی کی آخرى قید برداشت کر رہے تھے اور آپ کا جنازہ سن سات سو اٹھائیس ہجری میں دمشق کے قلعہ (جیل)ہی سے نکلا۔ آپ کی کل مدت قید سوا چھ سال بنتی ہے۔
امام ابن تیمیہ کا انتقال ستمبر سن تیرہ سو اٹھائیس عیسوی میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر پینسٹھ برس تھی۔ امام کی قبر شام کے دارالحکومت دمشق میں واقع مقابر الصوفیہ میں ہے۔
ایک تبصرہ برائے “جب شاہ فہد نے کمال ہوشیاری سے امام ابن تیمیہ کی قبر کو بے حرمتی سے بچا لیا”
بہت عمدہ تحریر ۔۔۔۔ ہر عہد کےآمروں کا یہی وتیرہ رہا ہے۔۔۔ اور ہر عہد میں ہی کلمہ حق کہنے والے بھی موجود رہے ہیں۔۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ شاہ فہد کی اولاد اب آمروں کا کردار ادا کر رہی ہے۔۔۔